← Sab articles · Read in English
بچوں کا خرچ کون دے گا؟
اور نہ دے تو کیا کریں — چار قدم۔
60-second video · YouTube · Facebook
بچوں کا خرچ، یعنی نفقہ۔ کتنا بنتا ہے، کیسے ملتا ہے، اور اگر نہ دیا جائے تو کیا کریں۔
۱۔ فیملی کورٹ میں دعویٰ
نفقے کا دعویٰ اپنے علاقے کی فیملی کورٹ میں دائر کیا جاتا ہے۔
نفقے کا دعویٰ اپنے علاقے کی فیملی کورٹ میں دائر ہوتا ہے۔
۲۔ مقدمے کے دوران عبوری خرچ
اور یہ اہم ہے: فیصلے کا انتظار نہیں کرنا پڑتا۔ فیملی کورٹس ایکٹ کی دفعہ سترہ اے کے تحت عدالت مقدمے کے دوران ہی ماہانہ عبوری خرچ مقرر کر دیتی ہے۔
فیملی کورٹس ایکٹ کی دفعہ 17-اے — عدالت مقدمے کے دوران ماہانہ عبوری خرچ مقرر کرتی ہے۔
۳۔ کب تک
عام اصول: بیٹے کا خرچ بلوغت تک، اور بیٹی کا اس کی شادی تک۔
۴۔ ادائیگی نہ ہو تو
ادائیگی نہ ہو تو عدالت ڈگری پر عمل درآمد کرواتی ہے۔ اور عبوری خرچ ادا نہ کرنے پر مقدمے میں فریق کا دفاع تک خارج ہو سکتا ہے۔
عدالت ڈگری پر عمل درآمد کرواتی ہے — اور عبوری خرچ نہ دینے پر دفاع بھی خارج ہو سکتا ہے۔
قرآن و سنت کی روشنی میں
بچوں کا خرچ باپ پر ہے: «اور جس کا بچہ ہے اس پر ماؤں کا کھانا اور کپڑا دستور کے مطابق ہے» (البقرہ 2:233)۔ طلاق کے بعد بھی یہ ذمہ داری باقی رہتی ہے: «وسعت والا اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے» (الطلاق 65:6–7)۔
عدالت جب نفقہ مقرر کرتی ہے تو باپ کی آمدن کو اسی اصول پر پرکھتی ہے۔
فقہی تفصیلات میں مکاتبِ فکر کا فرق ہو سکتا ہے — عمل سے پہلے مستند عالم اور وکیل سے رجوع کریں۔
اس معاملے میں وکیل چاہیے؟
RuleBook app mein case post karein; aap ke shehar ke verified vakeel offer ke sath jawab dete hain. Sab kuch likhit.
child maintenance after divorce in pakistan · bachon ka kharcha · nafqa case pakistan · interim maintenance 17-a · family court maintenance · rulebook · pakistan law in urdu
RULE